اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے ایک کانگریس رکن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ پسندانہ پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔
گرگ کاسار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا امریکی عوام ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ میں نے اپنی پوری زندگی دیکھی کہ ہمارے سیاستدان دوسروں کے بچوں یا امریکی فوجیوں کو بے انتہا جنگوں میں بھیجتے ہیں، جہاں وہ ہلاک ہوتے ہیں۔ اب بس ہونا چاہیے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ہستهای مذاکرات کا دوسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ۱۷ فروری ۲۰۲۶ کو منعقد ہوا۔ یہ مذاکرات تقریباً تین گھنٹے اور تیس منٹ تک جاری رہے اور انتہائی فشردہ اور ڈیپلومیٹک ماحول میں ہوئے۔
پہلے کے مذاکرات کی طرح، یہ اجلاس بھی غیر مستقیم تھا اور عمان کی وساطت سے منعقد ہوا۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکی وفد کی قیادت صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر اور خصوصی نمائندہ اسٹیو وِٹکاف نے کی۔
یاد رہے کہ مذاکرات کا پہلا دور ۶ فروری ۲۰۲۶کو مسقط میں ہوا تھا، جس میں دونوں فریقین نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ذریعے اپنے خیالات اور تحفظات ایک دوسرے تک پہنچائے تھے۔
یہ بیان امریکی عوام کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اقدامات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی مخالفت اور کانگریس میں پالیسی سازوں کی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ